مجھ پر دہشت گردی کا کیس کرنے سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی، عمران خان

 


ہری پور (24نیوزاُردو) ہری پور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جلسے میں شرکت کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، خاص طور پر خواتین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، تحریک آزادی میں سب سے زیادہ شرکت نوجوانوں نے شرکت کی تھی، جبکہ خواتین نے گھر گھر کا کر مہم چلائی تھی، اور لوگوں کو جاکر بتایا کہ انگریزوں کے بعد ہندؤں کی غلامی نہیں کرنا چاہتے۔

عمران خان نے کہا کہ بھارت میں 20 کروڑ مسلمان آج آزاد نہیں ہیں، بھارت میں مسلمانوں کا حال دیکھ لیں، قائداعظم کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ انہوں نے ہمیں آزاد ملک دیا، ہم نے انگریز کے بعد ہندؤں کی غلامی نہیں کی، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو حقیقی آزادی دلائی جائے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ اب کوئی ملک ہمیں اپنی جنگ میں نہیں دھکیل سکتا، دوسروں کی جنگ میں ہم نے اپنے 80 ہزار لوگ شہید کرادیے، دھمکی دی گئی ہماری جنگ میں شامل نہیں ہوئے تو پاکستان کو تباہ کردیں گے، کاش میں اس وقت ملک کا سربراہ ہوتا تو کبھی امریکیوں کے آگے گھٹنے نہ ٹیکتا۔

عمران خان نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں، نیویارک میں دہشت گردی سے 3 ہزار بندے مرتے ہیں اور یہاں 80 ہزار شہید ہوگئے، میں ہمیشہ اس جنگ کے خلاف تھا، مجھے طالبان خان کہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنے لوگوں کے ساتھ ہوں، خارجہ پالیسی اپنے لوگوں کیلئے ہوتی ہے، پاکستان اور بھارت اکٹھے آزاد ہوئے تھے لیکن آج بھارت کہاں کھڑا ہے اور پاکستان کہاں ہے، بھارتی حکومت نے کبھی اپنے لوگوں کے خلاف پالیسی نہیں بنائی۔

عمران خان نے کہا کہ روس اپنے لوگوں کیلئے سستا پٹرول لینے گیا تھا، روس اس لئے گیا تاکہ فضل الرحمان کی قیمت کم کر سکیں، ہماری حکومت ختم کردی گئی اور امپورٹڈ حکومت کو لاکر بٹھادیا گیا۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ آصف زرداری 30 سال سے ملک کی چوری کررہا ہے، شہباز شریف تم اور اس کے بھائی نے بھی پیسہ چوری کیا، تمہارے اتحادی فضل الرحمان اور زرداری پیسہ چوری کرتا ہے، ہم نے ان چوروں سے پاکستان کو آزاد کرنا ہے تاکہ پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہوں، کسی اور ملک کیلئے اپنے ملک کو قربان نہ کیا جائے

عمران خان نے کہا کہ مجھ پر دہشت گردی کا کیس کردیا گیا، مجھے گرفتاری کیلئے آئے کہ جیسے میں بہت بڑا دہشت گرد ہوں، میں تیار ہوگیا سوچا جیل بھی دیکھ لوں گا، مجھ پر دہشت گردی کا کیس کرنے سے مجھے فرق نہیں پڑا پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانیو! یہ مجھے گرفتار کرنے آئے تھے لیکن عوام کو دیکھ کر ڈر گئے، ہمارے نوجوان تو چھوڑیں خواتین میں اتنا جنون ہے کہ ان سے شکست کھا جائیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ میڈیا پہلے مہنگائی کا بہت رونا روتا تھا اب کیوں خاموش ہے، اب لفافہ صحافی مہنگائی پر کیوں نہیں بولتے، مجھے نکالنے کیلئے مہنگائی بہانہ تھا، کرپشن کا کوئی کیس تو تھا نہیں، شہباز شریف پھر بھیکاریوں کی طرح پیسے لینے قطر پہنچ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب سے سندھ اور بلوچستان کے علاقے متاثر ہیں، سندھ حکومت سے کہتا ہوں اپنے لوگوں پر رحم کریں، سندھ کے لوگ سیلاب سے شدید متاثر ہیں، سندھ حکومت پیسہ بیرون ملک بھجوانے کے بجائے عوام پر لگائے، سیلاب سے عوام متاثر ہیں اور شہباز شریف قطر پہنچے ہوئے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری اداروں پر تنقید ان کی بہتری کیلئے ہوتی ہے، تحریک انصاف اداروں کے خلاف بلکل نہیں ہے، ہماری تنقید تعمیری ہوتی ہے، خواجہ آصف کی طرح نہیں کرتے، ہم وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں ملک استحکام آئے، سیاسی اور معاشی استحکام کیلئے نئے شفاف انتخابات ضروری ہیں، امپورٹڈ حکومت سے کہتاہوں جلد انتخابات کا اعلان کریں۔

عمران خان نے کہا کہ عوام سے کہتا ہوں جب میں کال دوں گا تو تیار رہنا ہے، اب جو کال دوں گا وہ آخری ہوگی، عوام چاروں طرف سے اسلام آباد کیلئے نکلیں گے، شہباز شریف کی اسلام آباد میں چھوٹے سے رقبے پر حکومت ہے، جب عوام چاروں طرف سے نکلے گی تو نہ شہباز شریف، نہ فضل الرحمان اور نہ زرداری انہیں روک سکیں گے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے