ماہواری کے درد کے متعلق کب فکر کرنی چاہیے اور کب نہیں؟

 


اکثر خواتین کو ماہواری کے دوران درد محسوس ہوتا ہے۔

صحت ( 24نیوزاُردو ) یہ  درد ویسا ہی ہوتا ہے جیسے پٹھے کھچنے کے باعث وہ درد جو پیٹ سے ہوتا ہوا کمر، رانوں اور ٹانگوں تک اور جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل جاتا ہے۔ جیسے کبھی کبھار ہمارے جسم کے کسی حصے میں اچانک درد اٹھتا ہے، لیکن یہ درد اس سے زیادہ شدید ہوتا ہے۔

خواتین کو اس دوران متلی، اسہال اور سر کے درد کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔

 سچ تو یہ ہے کہ ماہواری کے دوران درد کی شدت اور اس کی مخصوص جگہ ہر خاتون میں مختلف ہو سکتی ہے۔

 

ماہواری کے دوران درد کیوں محسوس ہوتا ہے؟

آکسفورڈ یونیورسٹی کے نفیلڈز ڈیپارٹمنٹ آف وومنز ریپروڈکٹو ہیلتھ میں درد پر تحقیق کرنے والی ڈاکٹر کیٹی ونسینٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’30 سے 50 فیصد خواتین کو ماہواری میں درد کی شکایت ہوتی ہے۔ جب خواتین کو ماہواری ہوتی ہے تو بچہ دانی سکڑ جاتی ہے تاکہ خون باہر آ سکے۔‘

’اس دوران جو چکر آنے کی کیفیت ہوتی ہے جسے عموماً جمے ہوئے خون کے باہر آنے سے جوڑا جاتا ہے دراصل، سروکس کے کھلنے کے باعث ہوتا ہے تاکہ جما ہوا خون اس سے گزر سکے اور اس کے ساتھ مزید سکڑاؤ ہوتا ہے۔‘

ماہواری کے دوران سوزش کی شکایت بھی کی جاتی ہے۔ بچہ دانی کے ٹشوز ایک کیمیکل ریلیز کرتے ہیں جس سے درد بڑھتا ہے اور اس کے ساتھ ہی جسم سے ایک کیمیکل پراسٹاگلینڈنز نکلتا ہے جس کی مقدار ماہواری کے دوران بڑھتی جاتی ہے۔

پراسٹاگلینڈنز دراصل فیٹی کمپاؤنڈز ہوتے ہیں جو خلیوں میں بنتے ہیں اور اس کے جسم میں کئی قسم کے کام کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر ماہواری کے دوارن یہ بچہ دانی کے پھٹوں کو سکیڑنے کا باعث بنتا ہے، اس کے علاوہ یہ اس کے ردِ عمل میں ہونے والی سوزش کی وجہ بھی بنتا ہے جس سے درد ہوتا ہے۔

پراسٹاگلینڈنز ہارمونز نہیں ہوتے لیکن ان کی ہارمونز کے ساتھ مماثلت بہت زیادہ ہوتی ہے۔

ڈاکٹر ونسینٹ کا کہنا ہے کہ ’ہمیں لگتا ہے کہ پراسٹاگلینڈنز دراصل ماہواری کے دوران سوزش اور درد میں اضافے کی وجہ ہو سکتا ہے۔‘

سوزش اور درد کا مقصد کیا ہوتا ہے؟

ونسینٹ بتاتی ہیں کہ ’سوزش کے متعدد فوائد بھی ہیں۔ جب آپ زخمی ہوتے ہیں تو سوزش ہو جاتی ہے جس کے باعث ٹشوز کو صحتیاب ہونے میں مدد ملتی ہے اور آپ کو اس بات کا احساس دلواتی ہے کہ یہاں درد ہو رہا ہے تاکہ آپ اس حصے کو محفوظ رکھ سکیں اور زخم جلد بھر جائے۔‘

یہ ایک انتہائی ضروری مرحلہ ہے جس کے ذریعے جسم اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کا موقع دیتا ہے۔

اسی لیے ماہواری کے دوران درد اور پٹھوں کا کھچاؤ دراصل پراسٹاگلینڈنز کی وجہ سے ہوتا ہے تاکہ بچہ دانی کو مکمل طور صحتیاب ہونے کا موقع مل سکے اور اس میں موجود تمام بہاؤ نکل جائے۔

تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ بہاؤ شدید ہو جائے۔

 

ماہواری کے درد کے بارے میں کب پریشان ہونا چاہیے؟

 

ماہواری کے دوران درد محسوس کرنے والی خواتین کے لیے سوزش اور درد ختم کرنے والی ادویات دی جاتی ہیں۔

تاہم کئی مرتبہ ماہواری کے باعث ہونے والا درد کسی پہلے سے موجود طبی مسئلے کے باعث ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک عارضہ یوٹرین فبرائڈز کے نام سے جانا جاتا ہے، اسے فبرائڈز بھی کہتے ہیں جو کینسر سے پاک رسولیاں ہوتی ہیں جو بچہ دانی کے اندر اور اس کے گرد پھیلتی ہیں اور ان کے باعث ماہواری کے دوران درد ہوتا ہے۔ 

ماہواری کے دوران درد پیلوک انفلیمیٹری ڈیزیز (پی آئی ڈی) کے باعث بھی ہو سکتا ہے جو بچہ دانی، فیلوپین ٹیوب اور بیضہ دانی میں ہونے والا ایسا انفیکشن ہے۔

پی آئی ڈی اکثر ایسے بیکٹیریا کے باعث ہوتا ہے جو سیکس کے دوران منتقل ہوتا ہے جیسے کلیمیڈیا یا گونورہیا۔ کسی ایسے شخص کے ساتھ سیکس کرنا جسے یہ دونوں انفیکشن ہوں، اس کے باعث پی آئی ڈی ہو سکتا ہے۔

ماہواری کے باعث ہونے والا درد اکثر انٹراٹرین ڈیوائس کے باعث بھی ہو سکتا ہے جو عام طور پر مانع حمل کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اسے بچہ دانی میں داخل کیا جاتا ہے تاکہ حاملہ ہونے سے گریز کیا جا سکے۔

 

تاہم اس درد کی سب سے اہم وجہ اینڈومیٹریوسز ہے۔

امریکی قومی ادارہ برائے صحت کے مطابق درد سے بھرپور ماہواری کی ممکنہ وجوہات یہ ہو سکتی ہیں:

  • اینڈومیٹریوسز
  • مایوماس
  • انٹراٹرین ڈیوائس (آئی یو ڈی) تنابے سے بنی ہوئی
  • پیلویک انفلیمیٹری ڈیزیز (پی آئی ڈی)
  • پریمینسٹروئل سنڈروم (پی ایم ایس)
  • سیکس کے دوران منتقل ہونے والا انفیکشن

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے