دھمکی آمیز خط کس ملک نے بھیجا، وزیراعظم نے قوم کو بتادیا، خطاب جاری

  اسلام آباد (24نیوزاُردو) وزیراعظم عمران خان نے دھمکی آمیز خط کے حوالے سے امریکا کا نام لے لیا لیکن جیسے ہی غلطی کا احساس ہوا تو رک گئے اور کہا کہ مجھے ملک کا نام نہیں لینا تھا۔ 

Which country sent the threatening letter?


وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا خطاب ریکارڈ نہیں کیا بلکہ قوم سے براہ راست بات کررہا ہوں کیوں کہ آج پاکستان فیصلہ کن موڑ پر ہے اور آج دل کی باتیں کرنا چاہتا ہوں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ میری طرح کا آدمی سیاست میں کیوں آیا ، میں خوش قسمت انسان ہوں ، جس کو اللہ نے سب کچھ دے دیا تھا، شاید کسی کو اتنی شہرت اور دولت ملے جتنی مجھے سیاست میں آنے سے پہلے ملی تھی ، مجھے آج بھی کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی جب کہ زیادہ تر لوگوں کو سیاست میں آنے سے پہلے   کوئی نہیں جانتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کی پہلی نسل تھا جو آزاد پاکستان میں پیدا ہوئے تھے، میرے ماں باپ غلامی کے دور میں پیدا ہوئے تھے اور مجھے وہ ہمیشہ یہ احساس دلاتے تھے کہ تم خوش قسمت ہو جو آزاد ملک میں پیدا ہوئے جب کہ لوگ مجھے پوچھتے تھے آپ کو سیاست میں آنے کی  ضرورت کیا تھی ، یعنی اگر آپ کو صرف ضرورت تو آپ سیاست میں آئیں ، نظریہ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب میں چھوٹا تھا تو پوری دنیا میں پاکستان کی مثالیں دی جاتی تھیں، پاکستان نے  اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا جب کہ خود داری آزاد قوم کی نشانی ہوتی ہے، اور جہاں انصاف نہ ہو وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں ، طاقتور اور غریب کیلئے الگ الگ قانون ہو تو  وہ قوم تباہ ہوجاتی ہے،

انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں قانون کی حکمرانی تھی ، ریاست مدینہ  مسلمانوں کیلئے رول ماڈل ہے اور کلمہ ہمیں کسی کے سامنے  جھکنا نہیں سیکھاتا  جب کہ اللہ کو شرک پسند نہیں اور غلامی پیسے کی ہو یا خوف کی یہ شرک ہے ، سب سے بڑا شرک پیسے کی پوجا کرنا ہے، ہمیں بھی اپنے پیغمبر کے راستے پر چلنا چاہیے، وہ عظمت کا راستہ ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 25 سالہ سیاست میں ایک چیز کہی ہے کسی کے سامنے نہیں جھکوں گا،  ہم کسی کے خلاف نہیں لیکن ملکی مفاد پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، ہم تمام ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں جب کہ 9،11 میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا اور اس وقت بھی دوسروں کی جنگ  میں شرکت کی مخالفت کی تھی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اقتدار میں آتے ہی فیصلہ کیا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی آزاد ہوگی، ماضی میں ہمیں امریکا کی جانب سے بار بار ڈو مور کہا گیا اور کسی سینیئر سیاستدان نے ڈرون حملوں کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا تاکہ وہ ناراض نہ ہوجائیں، میں واحد سیاست تھا جس نے امریکی ڈرون حملوں کے خلاف مظاہرے کیے اور مجھے طالبان خان کہا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں 7 یا 8 مارچ کو امریکا کی جانب سے ایک پیغام آیا لیکن جب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو رک گئے اور کہا کہ مجھے ملک کا نام نہیں لینا تھا اور پھر کہا کہ باہر کے ایک عزت دار ملک نے خط بھیجا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ بظاہر وزیراعظم کے خلاف ہے لیکن یہ اصل میں ہمارے ملک کے خلاف ہے ، ابھی جو ہورہا ہے وہ پہلے سے ہی طے ہوگیا تھا ، خط میں ہمیں کہا گیا کہ ہم پاکستان کو پھر سے معاف کردیں گے اگر عمران خان عدم اعتماد ہارجائے یعنی عمران خان چلا جائے تو ہم پاکستان کو معاف کردیں گے ورنہ پاکستان کو مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے