اوکاڑہ کی تاریخ اور اس کے مسائل

رپورٹ۔ طارق نوید

اوکاڑہ (24 نیوز اردو) اوکاڑہ نسبتاً نیا زرعی شہر ہے۔ انگریزوں کے دور حکومت میں اوکان کا ایک جنگل تھا جہاں اس شہر کی تعمیر نو کی گئی اور اسی سے اس شہر کا نام لیا گیا۔ برطانوی دور حکومت میں یہ علاقہ منٹگمری ضلع کا حصہ تھا اور اس میں سالٹ پیٹر کی ایک بڑی ریفائنری تھی۔ اوکاڑہ میں بہت سی ٹیکسٹائل ملیں ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریتی آبادی نے مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کی حمایت کی۔ 1947 میں پاکستان کی آزادی کے بعد مسلم مہاجرین ضلع اوکاڑہ میں آباد ہوئے۔ 1982 میں، یہ شہر نئے بننے والے ضلع اوکاڑہ کا صدر مقام بن گیا۔ اوکاڑہ میں 1892 سے ریلوے لائن موجود ہے۔

 ضلع اوکاڑہ اپنی زرخیز زمینوں، پرامن قدرتی ماحول اور آلو، ٹماٹر، گنا، گندم، چاول اور مکئی کی فصلوں کے سبز کھیتوں کے لیے مشہور ہے۔ سنگترے اور آم کے باغات عام ہیں۔ دنیا کے مشہور مچلز فارمز بھی ضلع اوکاڑہ کے قریبی شہر رینالہ خورد میں واقع ہیں۔

لیکن بدقسمتی سے حکومتی ایوانوں کی طرف سے اس شہر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ اوکاڑہ شہر کا کوئی ایسا گلی یہ محلہ نہیں جہاں سیوریج کا کوئی نظام ہو جگہ جگہ ابلتے گٹر گندی نالیاں ٹوٹی پھوٹی سڑکے ایک بھیانک منظر پیش کرتی ہے اوکاڑہ کے رہائشیوں کی حکومتی ایوانوں سے عرض ہے کے شہر اوکاڑہ کےمسائیل پر نظر ڈالیں ۔

...اوکاڑہ کی گلی محلوں کی کچھ ویڈیوز اور تعاویر






 























ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے