ہندو انتہا پسند طلبا سے خوفزدہ نہیں تھی، حجاب پہنتی رہوں گی، مسکان خان

  انڈیا (24 نیوز اردو) طالبہ مسکان خان کا کہنا تھا کہ وہ اسائنمنٹ جمع کرانے کالج گئی تھی جس پر اسے برقع پہننے کی وجہ سے کالج میں داخل نہیں ہونے دیا جارہا تھا۔

Hindu extremists were not afraid of students, will continue to wear hijab, Miskan Khan

مسکان نے کہا کہ جب وہ کالج میں داخل ہوئی تو ہندو انتہا پسند طلبا نے پیچھا کرتے ہوئے جے شری رام کے نعرے لگائے تاہم ان سے خوف زدہ ہونے کے بجائے میں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔

مسکان نے کہا میرا پیچھا کرنے اورنعرے لگانے والوں میں صرف 10 فیصد کالج کے طالب علم تھے باقی سب باہر سے آئے ہوئے ہندو انتہا پسند تھے۔

مسکان خان نے کہا کہ حجاب مسلمان لڑکی کی پہچان ہے اور یہ ہم پر لازم ہے، میں حجاب پہنتی رہوں گی۔

گزشتہ روز بھارتی ریاست کرناٹک کے کالج میں ایک سکینڈ ایئر کی نہتی باحجاب طالبہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

باحجاب طالبہ اپنی اسکوٹی میں جیسے ہی کالج میں داخل ہوتی ہے تو کئی ہندو انتہاپسند طلبا  با حجاب طالبہ کے قریب بڑھتے ہوئے جے شری رام کا نعرہ لگاتے ہیں۔

تاہم طالبہ ان ہندو انتہاپسند طلبا سے بغیر ڈرے نڈر ہوکر ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہےاور نعرہ تکبیر بلند کرتی ہوئی کالج کی عمارت کی جانب بڑھتی ہے۔

اس کے بعد طالبہ کی بہادری کے قصے ہر زبان زد عام ہیں اور سوشل میڈیا پر مسکان خان کی دلیری کو خوب سراہا جارہا ہے اور پاکستان سمیت بھارت میں ٹویٹرپرٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے اور صارفین مسکان خان کی ہمت اورجرات کی داد دے رہے ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے