کورونا وائرس کے یومیہ 5 ہزار کیسز پر کابینہ کی تشویش: کاروبار کی بندش سے گریز

 اسلام آباد (24 نیوز اردو) تفصیل کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی  صدارت میں و فاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے کابینہ کو اومیکرون کےپھیلاو سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں موجودہ کورونا کیسز کی تعداد بڑھ کر 5 ہزارہو چکی ہے جب کہ ہاسپٹلائزیشن ریٹ 2.5 گنا اور آئی سی یو کی شرح میں 30 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔

Omicron


کابینہ نے کرونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون سے بچاؤ کیلئے ایس اوپیز، ماسک کےاستعمال اور ویکسی نیشن پر زور دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرے گی جس سےکاروبار متاثر ہو۔

وفاقی کابینہ میں اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی اور بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسپشل ٹیکنالوجی زونز سے روزگار کی فراہمی اور آئی ٹی بر آمدات میں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ حکومت ٹیکنالوجی شعبےکی ترقی کیلئے بڑے منصوبوں میں زیادہ رقم خرچ کر رہی ہے ٹیکنالوجی شعبےمیں مثبت نتائج آنا شروع ہو چکے ہیں۔

قومی اسمبلی میں موثرقانون سازی اور ترقی میں پارلیمنٹ کےکردار کو مضبوط کرنےپر بات چیت کرتے ہوئے کہا گیا کہ اسٹیٹ بینک ترمیمی بل معیشت کی بہتری اور اسٹرکچرل ریفارمز کیلئےضروری ہے امریکا اور برطانیہ کے سینٹرل بینک پاکستان سے زیادہ طاقتور ہیں، بورڈآف گورنرزاسٹیٹ بینک کےتمام اہم فیصلےکرےگا بورڈ کے ممبران حکومت پاکستان نامزد کرے گی گزشتہ حکومتوں میں بھی اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کیلئےترامیم کی گئیں اب فیصلہ سازی میں قومی سلامتی، معاشی بحالی کےتمام پہلووں کوملحوظ خاطررکھاگیا اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں تعیناتی کے وقت مفادات کےٹکراؤکےپہلوں کومدنظررکھا جائے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے