مری آفت زدہ قرار لوگ گاڑیوں میں ہلاک ہونے لگے

مری (24 نیوز اردو) مری میں ریسکیو کے حکام نے کہا ہے کہ برفباری کے باعث پھنسی ہوئی گاڑیوں میں ہلاکتوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں آٹھ بچے بھی شامل ہیں۔

Murree Declared disaster


 شیخ رشید احمد نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’پوری کوشش کے باوجود برفباری کی وجہ سے بند مری اور گلیات کے راستے گزشتہ 12 گھنٹے میں کھولنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور سیاح اپنی گاڑیوں میں پھنسے ہوئے ہیں جن کو خوراک اور گرم کپڑوں کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔‘

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد  نے کہا کہ 15، 20 سال کے بعد اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں نے مری کا رخ کیا  جس کی وجہ سے ایک بہت بڑا بحران پیدا ہوا۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ مری اور گلیات میں پھنسے سیاحوں کو نکالنے کے لیے سول آرمڈ فورسز کو طلب کر لیاہے۔ ’پوری انتظامیہ، آرمڈ فورسز، رینجرز، ایف سی اور پیدل آرمی کو فوری طور پر طلب کیا گیا ہے۔

شیخ رشید نے مری میں برف باری کے باعث پھنس جانے والے افراد کے حوالے سے کہا کہ ’اتنی بڑی تعداد میں سیاح ہیں کہ ان کے لیے کمبل اور خوراک کا مسئلہ ہے۔ میں علاقے کے تمام افراد سے اپیل کرتا ہوں کہ لوگوں کو گاڑیوں میں کمبل دیں اور خوراک دیں۔‘


پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے سیاحوں کی ہلاکت کے بعد مری میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے علاقے کو آفت زدہ قرار دیا۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پھنسے ہوئے سیاحوں کو نکالنا پہلی ترجیح ہے۔

مری میں ریسکیو حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے سیاحوں کا تعلق اسلام آباد، راولپنڈی، مردان، لاہور اور گوجرانوالہ سے ہے۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے