آنکھیں موت کا اندازہ قبل ازوقت لگا سکتی ہیں

 ویب ڈیسک (24 نیوز اردو) آنکھیں جسم کی کھڑکیاں ہوتی ہیں اور ساتھ ہی جسمانی کیفیات بھی بتاسکتی ہیں۔اب ایک لمبی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ  آنکھوں کے تفصیلی معائنے سے نہ صرف درست حیاتیاتی (بائیلوجیکل) عمر معلوم کی جاتی ہے بلکہ قبل ازوقت موت کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے،عمرگزرنے کے ساتھ ہی بیماریاں اور جسمانی تبدیلیاں نمودار ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عین یکساں عمر والے دو افراد میں بھی  یہ کیفیات مختلف ہوسکتی ہیں۔ اس طرح ماہ وسال کی بجائے اگردرست جسمانی حیات معلوم کی جائے تو وہ اصل عمر سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ 

Eyes predict death prematurely


اس کی وجہ یہ ہے کہ بیماریاں اور جسمانی تبدیلیاں اصل عمر سے بڑھ کربھی ہوسکتی ہیں،یعنی اگر کسی شخص کو 40 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑا اور قلب کو نقصان پہنچا ہے تو اب دل کی عمر اصل عمر سے زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ مرض نے دل کو مزید بوڑھا کردیا ہے۔ جسم میں بعض کیمیکل، بایومارکر، جینیاتی کیفیات، دماغی صلاحیت، امنیاتی نظام اور بلڈ پریشر سے بھی بدن کی حیاتیاتی عمر معلوم کی جاسکتی ہے۔   غیرملکی سائنسدانوں نے 40 سے 69 سال تک کے47 ہزار  افراد کی آنکھوں میں پچھلے گہرے ترین حصے ’فیونڈس‘ کی 80 ہزار تصاویر لی ہیں۔ 

ان تمام تصاویر کو مشین لرننگ الگورتھم سے گزارا گیا جس سے مزید انکشاف ہوئے، سافٹ ویئر نے اصل عمر کے مقابلے میں ریٹینا کی حیاتیاتی عمر کا درست اندازہ دیکھایا۔ 51 فیصد افراد کے ریٹینا کی عمر کا فرق تین سال، 28 فیصد کا پانچ سال اورچار فیصد افراد میں 10 برس کا فرق سامنے آیا ۔ اس طرح ان سارے لوگوں کی آنکھوں کی حیاتیاتی عمر خود ان کی عمر سے زائد ثابت ہوئیں۔ ان میں سے بڑی عمر کے 49 تا 67 فیصد افراد دل یا کینسر کے امراض سے ہٹ کر بھی قبل ازوقت موت کے دہانے پر تھے۔ یعنی آنکھوں کا بڑھاپا موت کے خطرے کو دو سے تین فیصد تک بڑھا سکتا ہے اور اس کی ایک طرح سے پیشگوئی بھی کی جاسکتی ہے۔ 

تاہم اب ماہرین اس کی دیگر وجوہات معلوم کرنےمصروف ہیں، ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آنکھیں بدن کا روزن ہوتی ہیں اور ان سے بہت ساری طبی کیفیات معلوم کی ہو جاتی  ہیں،ساتھ میں یہ بھی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ یہ کیفیات کس قدر جان لیوا ہوسکتی ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے