حافظ آباد گھر کا اکلوتا کفیل ناحق قتل کر کے ڈکیتی کا رنگ دے دیا گیا۔

 حافظ آباد ( 24 نیوز اردو )تھانہ صدر چوکی سولنگی اعوان کی حدود میں لکھیا موڑ کے قریب گزشتہ شام فائرنگ سے مدھریانوالہ کے رہائشی حافظ راشد کو قتل کر دیا گیا، جس میں مبینہ طور پر وقوعہ کو ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ڈکیت اپنے ساتھی ڈاکو کی فائرنگ سے مارا گیا، ایف آئی آر 1006/21 تھانہ صدر حافظ آباد میں درج بھی کر لی گی، زرائع کے مطابق وقوعہ کے وقت مقتول کے ساتھ محمد عثمان نامی نوجوان موجود تھا جو اپنی ذاتی موٹر سائیکل پر کالیکی منڈی سے واپس آ رہے تھے، عثمان کے مطابق لکھیا موڑ کے قریب راشد علی نے اپنی جان پہچان والے رکشہ ڈرائیور جو کہ نجی کمپنی میں آرڈر ٹیکر تھا جس سے راشد کا ذاتی لین دین کا تنازعہ تھا جو کوٹ نواں کی طرف جا رہا تھا اس کو روکا اور آپس میں گفتگو کرنے لگے، اسی دوران عثمان کو فون آگیا اور میں فون سننے چند گز فاصلے پر چلا گیا جس کے چند لمحے بعد ہی فائر کی آواز آئی، عثمان کا کہنا تھا کہ میں نے دیکھا کہ حافظ راشد زمین پر گرا پڑا تھا اور رکشے والے نے پستول عثمان کی جانب کرتے ہوئے بھاگ جانے کا کہا عثمان ڈر کر وہاں سے بھاگ گیا جسے بعد ازاں ڈکیتی کا رنگ دے دیا گیا،


 دوسری جانب رکشہ ڈرائیور زر بادشاہ نے اسے اپنے ساتھ ڈکیتی کے دوران اپنے ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ہونا قرار دیا ہے جبکہ زرائع کے مطابق پستول رکشہ ڈرائیور سے برآمد ہوا ہے اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر تحقیقات شروع کردیں، زرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ رکشہ ڈرائیور جو کہ بعد میں مقدمہ کا مدعی بنا مختلف قسم کے بیان بدلتا رہا، دوسری جانب مقتول کے بھائی کاشف اقبال نے وزیر اعلیٰ پنجاب،آئی جی پولیس پنجاب، آر پی او گوجرانوالہ اور ڈی پی او حافظ آباد سے اپیل کی ہے کہ خدارا ہمیں انصاف دیا جائے اور قاتل کو سزا دی جائے، ہمارے بھائی کو قتل کر کے ڈکیتی کا رنگ دے کر ڈکیت بنا دیا گیا اہل علاقہ نے مقتول کی نیک نامی کی گواہی بھی دی ہے اور اسے جرائم پیشہ قرار دئیے جانے پر صاف انکار بھی کیا ہے، اہل علاقہ کا پولیس اور دیگر تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ بھی ہے کہ اس وقوعہ کی شفاف انکوائری کر کے قاتل کو سزا دی جائے اور مقتول حافظ راشد کو انصاف فراہم کیا جائے.

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے