جلالپور بھٹیاں نادرہ آفس میں لوٹ مار کا بازار گرم.

 جلالپور بھٹیاں (24 نیوز اردو) نادرہ آفس میں لوٹ مار کا بازار گرم، سائلین کا کوئی پرسان حال نہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہاں تمام سائلین کو کارڈ بنوانے کیلئے فری یا 400 روپے کی بجائے 750 روپے والا ٹوکن خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے جبکہ ب فارم کیلئے عام فیس 50 روپے کی بجائے ارجنٹ فیس کی مد میں زبردستی 500 بٹورے جاتے ہیں۔



 اس طرح شہریوں سے آفس انچارج کی ایما پر روزانہ مجموعی طور پر ہزاروں روپے اضافی نکلوائے جاتے ہیں، نیا عام شناختی کارڈ جو کہ فری میں بنتا ہے اس کیلئے بھی یہاں پر 750 روپے والا سمارٹ کارڈ کا ٹوکن خریدنا لازمی قرار دیا گیا ہے علاوہ ازیں سائلین کو ٹوکن جاری نہیں کیا جاتا حالانکہ سمارٹ کارڈ بنوانے کی ہر عام شہری کو قطعاً ضرورت نہیں ہوتی۔ 

کسی بھی شہری کی جانب سے کوئی سوال اٹھانے پر عملہ کے افراد سائل کا گھیراؤ کر کے شور شرابہ کرتے ہیں کام بند کر دیتے ہیں اور دفتر سے نکال دیتے ہیں۔ سرکاری دفتر میں نجی بیٹھک یا ڈیرے کا ماحول بنا ہوا ہے اقربا پروری اور خواص کے کاموں کے علاوہ عام شہریوں کو دھتکار دیتے ہیں بے جا اور خود ساختہ اعتراضات لگا کر اور غیر ضروری ویریفیکیشنز کے چکروں میں ڈال کر مہینوں بھر زلیل کرتے ہیں شہریوں کیلئے دفتر ہٰذا میں سفارش یا مال منتر کے بغیر جائز کام کروانا دشوار ہو گیا ہوا ہے۔ شہری نادرہ آفس انچارج کی بدعنوانی کے باعث سراپہ احتجاج ہیں اور ڈی جی نادرہ  سے نوٹس لیکر اصلاح احوال کرنے کی اپیل کرتے ہیں

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے