ہائیکورٹ نے اشرف صحرائی کے بیٹوں کی ضمانت مسترد ہونے کے خلاف درخواست خارج کر دی

بھارت (24 نیوز اردو) بھارت  کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں ہائی کورٹ نے شہید محمد اشرف صحرائی کے دو بیٹوں اور ان کے ایک رشتہ دار کی ضمانت مسترد کیے جانے کے خصوصی عدالت کے حکم کے خلاف اپیل خارج کر دی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 33 سالہ مجاہد صحرائی اور 35 سالہ راشد صحرائی کو رواں برس 16 مئی کو غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے بارے میں کالے قانون یو اے پی اے کے تحت دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔

ہائیکورٹ نے اشرف صحرائی کے بیٹوں کی ضمانت مسترد ہونے کے خلاف درخواست خارج کر دی


 ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے 6 مئی کو اپنے والد محمد اشرف صحرائی کی تدفین کے وقت بھارت کی خود مختاری اور سالمیت کے خلاف نعرے لگائے تھے۔ مقبوضہ علاقے کی ایک خصوصی عدالت نے 19 جولائی کو ان کی درخواست ضمانت کو خارج کر دیا۔ انہوں نے درخواست ضمانت مسترد کرنے کے حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔جسٹس علی محمد ماگرے اور جسٹس سنجے دھر پر مشتمل ہائیکورٹ کے ڈویڑن بنچ نے مجاہد صحرائی اور راشد صحرائی کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں خصوصی عدالت کے جج نے پبلک پراسیکیوٹر کی رپورٹ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا ہے۔ انہوںنے کہا کہ خصوصی جج کی طرف سے دیا گیا حکم واضح اور معقول تھا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے