مایوسی

مصنف ( محمد نعمان عالم ) میرے ایک نہایت محترم استاد ہم سے اکثر کہا کرتے تھے کہ مایوسی گناہ ہے۔ مایوسی کفر ہے۔ مایوسی کو اپنے قریب بھی نہ  آنے دینا۔ مایوسی کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن میرے نزدیک اِس کی سب سے بڑی وجہ تب بنتی ہے جب انسان دین اور آخرت کو بھول کر دنیا کی آرام و آسائش کی فکر کرنے لگ جائے۔ تب انسان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ناکامی اُسے بلا تکلف مایوسی کی طرف لے جاتی ہے ۔ آپ آس پاس نظر دوڑائیں اور دیکھیں ہم واقعی دین سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ آج کی جنریشن مایوسی سے بہت متاثر ہو رہی ہے۔ 

اس کی ایک اہم وجہ تعلیم میں ناکامی بھی ہے۔ حال ہی میں ہونے والا مقابلے کے امتحان (سی ایس ایس)میں اٹھارہ ہزار طلبہ وطالبات  نے حصہ لیا جس میں سے 374 پاس ہوئے اور اُن میں سے بھی سوا دو سو مکمل انٹرویو کے ساتھ کامیاب ہوئے۔ کامیابی کی شرح 1.9 فیصد رہی۔ پاکستان میں تمام بورڈز کی کامیابی شرح بھی اسی طرح بہت کم ہے۔ اب آپ سوچیں جو جونیئرز طلبہ وطالبات جب اپنے ان سینئرز کو دیکھیں گئے تو یقیناً وہ مایوس ہی ہونگے۔ اگر ہم تعلیم کے میدان میں آگے نہیں بڑھے تو روزگار کے مواقع بہت کم ہونگے جس سے نوجوان بری طرح مایوس ہونگے۔

 فرانس یورپ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کا جی ڈی پی اس وقت 2.7 ٹریلین ڈالر ہے۔اس سے دو گنا جی ڈی پی جرمنی کا ہے اور جاپان کا جی ڈی پی جرمنی سے چار گنا زیادہ ہے۔ امریکہ کا جی ڈی پی جاپان سے آٹھ گنا زیادہ ہے۔ او آئی سی کے تمام ممالک کا جی ڈی پی فرانس سے کم ہے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کے ہمارا معاشی نظام کیسا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم 1939 تا 1945 تک لڑی گئی۔

 اس چھ سال میں برطانیہ کی دو یونیورسٹیاں ( کیمیرج اور آکسفورڈ) کھلی رہی۔ انہیں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ تھا۔ آج 2021 میں یہ دونوں یونیورسٹیاں دنیا کی پہلی پانچ یونیورسٹیوں میں شامل ہیں۔ امریکہ ہم سے تعلیم کے میدان میں بہت آگے ہے اور اسی طرح اُن کے پاس جدید ہتھیار اور ٹیکنالوجی ہے۔ آپ ذرا تصور کریں کہ اگر امریکہ مسلمان ملک ہوتا تو کیا ہندوستان کو مسلمانوں پہ ظلم کرنے دیتا، اسرائیل کو فلسطین پہ ظلم کرنے دیتا، میانمار روہنگیا اور بوسنیا کشمیر میں مسلمانوں پہ ظلم ہونے دیتا۔ یقیناً نہیں۔ قرآن کریم کی نازل ہونے والی پہلی سورت کا پہلا لفظ بھی ہمیں پڑھنے کا کہتا ہے۔

 کافر مسلمانوں پہ ظلم کرتے رہیں گئے اور ہم کیا اسی طرح کسی معجزے کا انتظار کرتے رہیں گئے۔ کیا ہم یہی کہتے رہیں گئے کہ تعلیم میں کچھ نہیں رکھا۔ اللّٰہ تعالٰی اُس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود کو نہ بدلنا چاہے۔ ہم کب تک ظلم اور غربت کی چکی میں پستے رہیں گئے۔ آپ بھی اس بات پہ یقین کر لیں اور اپنے بچوں کو بتائیں کہ اگر آگے بڑھنا ہے تو  ہمیں ( ا۔ب۔پ ) پہ یقین کرنا ہوگا۔ کیونکہ بچے باتوں سے زیادہ عمل سے سیکھتے ہیں۔اچھا وقت آئے گا  انشاءاللّٰہ ۔فی امان اللّٰہ


Muhammad Nouman Alam

 مصنف ۔ محمد نعمان عالم

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے