یو اے ای میں متعدد شعبوں میں جلد ہزاروں نوکریاں نکلیں گی.

  سروے رپورٹ کے مطابق امارات میں کاروباری حالات بہتر ہو گئے ہیں، لوگوں کو نوکریوں سے نکالنے کا سلسلہ بھی بند ہو گیا ہے

دُبئی ( 24 نیوز اردو ) کورونا کی وبا نے متحدہ عرب امارات کے کاروباری اور تجارتی حالات کو بھی تقریباً ایک سال تک بُری طرح متاثر کیا جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے روزگار ہوئے اور لاکھوں ایسے تھے جن کی تنخواہیں گھٹا دی گئی ہیں۔ اس معاشی بحران کی زد میں ہزاروں پاکستانی بھی آئے ہیں۔ تاہم گزشتہ فروری کے مہینے میں اماراتی مارکیٹ میں بہتری نظر آئی ہے ۔

جس کے بعد لوگوں کو نوکریوں سے نکالنے کا سلسلہ بند ہو گیا ہے اور نئی ملازمتیں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔IHS Markit کی جانب سے ریلیز کردہ منتھلی پرچیزنگ مینجرز انڈیکس (PMI)کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ فروری کا مہینہ کاروباری حالات کے لحاظ سے بہترین ثابت ہوا ہے۔ اب اماراتی کاروباری و تجارتی اداروں اور فرمز کے حالات بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

یو اے ای میں متعدد شعبوں میں جلد ہزاروں نوکریاں نکلیں گی.



اس ماہانہ سروے کے مطابق فروری کے مہینے میں سیلز کا حجم بڑھا ہے اور گزشتہ چھ ماہ کے دوران کمپنیوں نے خسارے کی وجہ سے ملازمین کو فارغ کرنے کا جوسلسلہ شروع کر رکھا تھا، وہ بھی اب تھم گیا ہے۔

یو اے ای کا یہ PMI انڈیکس پرائیویٹ سیکٹر کی کارکردگی اور کاروباری رحجانات کو ظاہر کرتا ہے۔ انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس سے متعلق نئے ایس او پیز اور تیزی سے جاری ویکسی نیشن مہم کے بعد کاروباری حالات میں تیز ی سے سدھار کی بھرپور اُمید پیدا ہو گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ اکتوبر 2021ء میں دُبئی ایکسپو کا انعقاد بھی ہو رہا ہے، جس سے قبل مزید نئے کاروبار اور ملازمتیں پیدا ہوں گی، جو معیشت اور مارکیٹ کو تیزی سے بہتری کی جانب لے جانے کا سبب بن رہی ہیں۔

HS مارکیٹ کے معاشی ماہر ڈیوڈ اوون نے بتایا کہ کورونا ایس او پیز میں سختی کا اماراتی معیشت پر تھوڑا بہت منفی اثر پڑ سکتا ہے ۔تاہم اماراتی ویکسین پروگرام کے باعث مملکت کی 60 فیصد سے زائد آبادی ویکسین لگوا کر محفوط ہو چکی ہے۔ اس لیے یہ پابندیاں مستقبل میں جلد ختم ہو جائیں گی۔ گزشتہ 12 ماہ کے دوران94 فیصد تجارتی شعبے اور کاروبار کورونا وبا کی وجہ سے خسارے کا شکار ہوئے ہیں، البتہ 6 فیصد کاروباری شعبوں کو اس سے نقصان نہیں پہنچا ہے۔

Post a Comment

0 Comments