آزادجموں وکشمیر وصدرمسلم لیگ ن راجہ محمد فاروق حیدرخان کی پریس کانفرنس .



وزیرا عظم ( 24 نیوز اردو ) آزادجموں وکشمیر وصدرمسلم لیگ ن راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ نوکریوں کےلئے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والا کلچر ختم کردیا جو رہی سہی کسر ہے اس کےلئے بھی نظام لارہے ہیں کہ اب کوئی بھی میرٹ کے علاوہ بھرتی نہیں سکے ہوگا۔ جو اہل ہوگا بھرتی ہوگا جو اہل نہیں ان کےلئے متبادل ذرائع آمدن دینگے ، 75کروڑ روپے کی لاگت سے نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار کےلئے بلاسود قرضے دے رہے ہیں،بیروزگاری کے خاتمے کےلئے فنی تعلیم کو فروغ دے رہے ہیں،ہر سال 600طالبعلموں کو پاکستان کے مایہ ناز اداروں میں فنی تربیت فراہم کرنے کا اہتمام کررہے ہیں جس کی فیسیں اور تمام اخراجات حکومت آزادکشمیر برداشت کریگی، سیاسی بھرتیوں نے سسٹم کو بہت نقصان پہنچایا، تمام تقرریاں بذریعہ این ٹی ایس اور پی ایس سی ہونگی،اب کوئی وزیر یا ایم ایل اے نوکریوں کی فہرست نہیں دے سکے گا اور نہ ہی اس کا یہ کام ہے،آزادکشمیر کا سب سے بڑا مسئلہ بیروزگاری ہے، جب لوگوں کو میرٹ پر روزگار ملے گاتو جو اہل نہیں وہ کوئی دوسرا کام کرےگا ، 80فیصد نوکریاں محکمہ تعلیم میں این ٹی ایس اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہورہی ہیںتمام محکمہ جات میں تمام بھرتیوں کےلئے این ٹی ایس کا نفاذکرینگے ، گزشتہ حکومت نے سیاسی بنیادوں پرنوکریاں دیں اور لوگوں کو سسٹم سے اعتبار اٹھ گیا جس کو ہم نے بحال کیا۔ بے نامی جماعتوں کےلئے آزادکشمیر میں کوئی جگہ نہیں ۔ یہاں اقتدار کی ہوس میں لوگ اپنا ماضی بھول جاتے ہیں ، بڑے بڑے دعوے کرنے والوں نے اپنے ادوار میں شیر مادر کی طرح ریاستی خزانہ لوٹا ، آزادکشمیر کے عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ماضی کے استحصالی ٹولے کو دوبارہ مسلط کرنا چاہتے ہیں یا مسلم لیگ ن کے بہتری کے عمل کو آگے لے جانے چاہتے ہیں ۔

ہم نے اہل اور باصلاحیت افراد کو ریاستی امور میں شامل کیا جس کی وجہ سے ریاستی خزانہ کا صحیح تصرف ہوا، ذاتی مفادکو بالائے طاق رکھتے ہوئے اجتماعی مفاد کی خاطر فیصلے کیے ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے مرکزی صدر ایم ایس ایف این سید غضنفر علی شاہ کی قیادت میں ملنے والے ایم ایس ایف این کے وفد اور دیگر عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پبلک ریلیشن آفیسر راجہ زین محمو دبھی موجود تھے ۔ وزیر اعظم راجہ محمد فارق حیدرخان نے کہا کہ رشوت اور سفارشی کلچر نے ریاست کی جڑیں کھوکھلی کر دیں تھیں جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن کی حکومت کو سخت فیصلے کرنا پڑے، سرکاری خزانہ امانت ہے اور بہت بڑی ذمہ داری بھی ‘ اس میں خیانت کا سوچ بھی نہیں سکتے ،جس معاشرے میں ناانصافی ہو وہ قائم نہیں رہ سکتا۔ جس دن سے اقتدار سنبھالا اس دن سے تہیہ کر لیا تھا کہ حقدار کو اس کا حق دینا ہے اور اللہ کے فضل اور اس کی نصرت سے ہم نے کر کے دکھایا ۔انہوں نے کہاکہ نوکریوں کےلئے سیاسی وفاداریاں تبدیل والہ سلسلہ جڑ سے ختم کرکے جاﺅں گا، تمام بھرتیوں کےلئے این ٹی ایس کو لازمی قراردیا جائے گا ۔ انہوںنے کہاکہ سیاسی بنیاد پر بھرتیوں کی وجہ سے لوگوں کا سسٹم سے اعتبار اٹھ چکا تھا جس کو مسلم لیگ ن کی حکومت نے بحال کیا ۔ ہم نے قومی مفاد کو مقدم رکھ کرکام کیا۔مسلم لیگ ن کی حکومت نے غریب اور پسے ہوئے طبقے کو اوپر اٹھانے کےلئے اقدامات اٹھائے ۔

آزادکشمیر کے ہر علاقے میں ضرورت کے مطابق ترقیاتی منصوبے دیے ۔ آزادکشمیر کے دیرینہ مسائل بھی مسلم لیگ ن کی حکومت نے حل کیے ۔ انہوں نے کہاکہ تیرہویں آئینی ترمیم کے ثمرات آزادکشمیر کے عوام محسوس کررہے ہیں ، آج ہم معاشی طور پر خود کفیل ہیں ، گزشتہ سال ریاست سے محصولات کی مد میں ریکارڈ آمدن ہوئی جو عوام کا ہمارے اوپر اعتماد کا مظہر ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان نے ہمارے انتظامی بجٹ پر کٹ لگائی ہے جس کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے ، اگر حکومت پاکستان ہمارے پیسے ہمیں ادا کرتی ہے تو ملازمین کے جائز مسائل حل ہوجائیں گے ۔ وزیرا عظم نے کہاکہ مسلم لیگ ن کی حکومت کا ماضی کی کسی حکومت سے تقابلی جائزہ نہیں کیا جا سکتا ، ہم نے اللہ کے فضل و کرم سے نہ کرپشن کی اور نہ کرنے دی ، ہم نے ایک پالیسی کے تحت عوام کی خدمت کی جس کی وجہ سے ریاست آج خوشحالی کی جانب گامزن ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن کی حکومت اللہ کے فضل اور اس کی نصرت سے دوبارہ حکومت بنائے گی اور تعمیرو ترقی اور خوشحالی کا سفر جاری رہے گا۔

Post a Comment

0 Comments